وزیر اعظم عمران خان نے 19 اکتوبر 2020 کو کلین گرین پاکستان انڈیکس آف پنجاب اور کے پی کے کے حوصلہ افزائی کے پروگرام کے تحت نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شہروں کا اعلان کیا ہے۔ اٹک ، بہاولپور ، لاہور ، گجرات اور راولپنڈی کے پی کے کے لئے: بنوں ، کوہاٹ اور پشاور کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔
ہمیں فالو کریں

کلین گرین پاکستان انڈیکس (سی جی پی آئی)


  • ہوم
  • کلین گرین پاکستان انڈیکس (سی جی پی آئی)

مقاصد :

image

کلین گرین پاکستان انڈیکس (سی جی پی آئی)

کلین گرین پاکستان انڈیکس (سی جی پی آئی) شہر / تحصیل اور محلے کی سطح کا انڈیکس ہے جس کا مقصد شہروں / تحصیلوں اور محلوں کی اُن کی صفائی ستھرائی اورسر سبز ماحول کے مطابق درجہ بندی کرنا ہے۔ سی جی پی آئی 25 نومبر 2019 کو وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر لانچ کیا جانے والا سی جی پی ایم کا بنیادی ستون ہے۔ سی جی پی آئی شہروں کی درجہ بندی کے لئے استعمال کیا جائے گا جس میں اس پروگرام کے ہر حصے، پینے کا صاف پانی ، ٹھوس فضلے کی ا نتظام کاری، مائع کچرے کا انتظام / حفظان صحت ، شجرکاری ، اور کل صفائی ستھرائی مقرر کردہ کارکردگی کے اجزا کی بنیاد پر کی جائے گی۔ سی جی پی آئی کا مقصدسر سبز اور صاف ستھرائی کی بنیادپر مبنی شہروں کی درجہ بندی کرنا ہے۔

ہمارے انڈیکیٹر

کارکردگی کے اشارے

  • پانی سپلائی کوریج

  • پانی کی فنکشنل/ فعال سکیمیں

  • آلودگی سے پاک

  • گھر اور صارف کی سطح پر آلودگی سے پاک پانی ۔

  • فیول اسٹیشن/ ایندھن اسٹیشن

  • مارکیٹوں اور عوامی عمارات میں فنکشنل لیٹرینوں کی تعداد

  • پارکس کی تعداد جہاں قابل استعمال کچرا دان موجود ہیں۔

  • مردوں کےلیے لیٹرینوں کی سہولت والے عوامی پارک

  • عورتوں کےلیے لیٹرینوں کی سہولت والے عوامی پارک

  • پارک جہاں پینے کے پانی کی سہولیات ہیں

  • سیوریج سسٹم کوریج۔ پانی کی نکاسی کا نظام

  • پانی کی نکاسی کی فنکشنل سکیمیں

  • پانی کی نکاسی کا فنکشنل نظام

  • بارش کے پانی کی نکاسی کا نظام

  • گھر گھر سے کوڑا جمع کرنا

  • کچرا اُٹھانے کے لیے مختص کی گئی جگہیں

  • بلدیہ کے لیے کوڑا ٹھکانے لگانے کی مختص جگہ

  • مستقل لینڈ فل سائیٹ

  • کچرے کا دوبارہ استعمال

  • کچرے کے لیے استعمال کی جانے والی گاڑیاں جو ڈھانپی ہوئی اور صاف ہیں۔

  • شہر میں گرین بیلٹس

  • درخت لگانے کا ہدف

  • پارک اور باغات جو سر سبز و شاداب ہیں

شہروں کی درجہ بندی کا طریقہ کار:

  • سی جی پی آئی میں شہروں کی درجہ بندی کے لیے 35 سے زیادہ ذیلی اشارے شامل ہیں۔ پروگرام میں شامل ہر شہر کے پانچ ستونوں کامجموعی سکور لیا جائے گا جو سی جی پی آئی کا حتمی اسکور فراہم کرے گا۔

  • گھریلو اعداد و شمار حکومت پاکستان کے مختلف سروے سے مرتب کیے جائیں گے ، جبکہ سروس کی فراہمی کا ڈیٹا ہر شہر / ضلع میں کام کرنے والے متعلقہ سٹی کونسلوں اور انتظامیہ کے ذریعہ مہینے کی بنیاد پر بلدیاتی محکموں کے تعاون سے فراہم کیاجائے گا۔

  • گھریلو سطح کے اشارے( کارکردگی جانچنے کے اجزا) پڑوس کی سطح پر جمع کیے جائیں گے اور پڑوس کی سطح پر درج اشارے شہر / تحصیل کی سطح پر جمع کیےجائیں گے ۔

  • مقامی کونسل / خدمت کی ترسیل کرنے والی تنظیم کے ذریعہ سے فراہم کردہ شہر کی سطح کا ہر مجموعی ذیلی اشارے کا سکور، ریلیٹو اینڈکس کے فارمولے کا استعمال کرکے 0-100 پیمانے پرشمار کیاجائےگا۔

  • درج کردہ اعداد و شمار کا صوبائی حکومت جائزہ لے گی اور حتمی اعداد و شمار کو موسمیاتی تبدیلی کی وفاقی وزارت کے ساتھ شیئر کرنے کے لئے پیش کریں گی۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی ،واش اسٹریٹجک یونٹ کے ذریعے حتمی درجہ بندی اور ایوارڈز کا جائزہ لے کر یہاںاس کی تائید کی جائے گی۔

  • مجوزہ اشارے کے مقابلہ میں شریک شہروں سے کم سے کم تین ماہ کا ڈیٹا درکار ہوگا۔ درجہ بندی کا اعلان وقتا فوقتا کیا جائے گا۔ مقابلے میں حصہ لینے والے شہروں کی کارکردگی کا تعین چھ ماہ کے بعد تعین کردہ اشارے کے معیار پرکیا جائے گا۔ نمایاں پیش رفت دکھانے والےشہروں کی صوبائی اور وفاقی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی۔