وزیر اعظم عمران خان نے 19 اکتوبر 2020 کو کلین گرین پاکستان انڈیکس آف پنجاب اور کے پی کے کے حوصلہ افزائی کے پروگرام کے تحت نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شہروں کا اعلان کیا ہے۔ اٹک ، بہاولپور ، لاہور ، گجرات اور راولپنڈی کے پی کے کے لئے: بنوں ، کوہاٹ اور پشاور کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔
ہمیں فالو کریں

مائع کچرے کی انتظام کاری

  • گھر
  • مائع کچرے کی انتظام کاری

مائع کچرے کی انتظام کاری

تعارف

مائع کچرے کی انتظام کاری میں سیوریج جمع کرنا ، اس کی ٹریٹمنٹ اور آلودہ پانی کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ آلودہ پانی کی ماحولیاتی آلودگی سے ماحول کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ بڑے پیمانے پر ، پاکستان کے شہری علاقوں میں مائع کچرے کی نکاسی آب سیوریج اور انفرادی سیپٹک نظام کے ذریعے سےکی جاتی ہے ، جس کے انتظامات بلدیات ، واسا ، ڈبلیو ایس ایس سی اور ہاؤسنگ اتھارٹی سنبھالتی ہے۔ نان-پوائنٹ سورس آلودگی مائع کچرے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے جس میں کاشتکاری کی سرگرمیوں ، ناکارہ سیپٹک نظام ، گاڑیاں اور باغبانی سے متعلقہ مصنوعات شامل ہیں۔ نان-پوائنٹ سورس آلودگی (غیر متعلقہ ذرائع سےپیدا ہونے والی آلودگی) کا انتظام کمیونٹی نکاسی آب کے نظاموں کے ماتحت نہیں کیاجاتا ہے۔ مائع فضلہ کے انتظام کا منصوبہ (ایل ڈبلیو ایم پی) جو کہ خاص طور پر انفرادی علاقوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ، تکنیکی اور ریگولیٹری ضروریات کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی رائے کی بنیاد پر ان سرگرمیوں کی رہنمائی کرتا ہے